بھٹکل 29/اگست (ایس او نیوز) بھٹکل کے سمندر میں واقع نیتراونی جزیرے سے کوئی واقف نہ ہوگا، اس کے امکانات بہت کم ہیں۔ مگر یہ سچائی بہت سے لوگوں کو معلوم نہیں ہوگی کہ یہ جزیرہ ضلع انتظامیہ کی ملکیت ہے یہ ثابت کرنے والے دستاویزات ضلع یا تعلقہ انتظامیہ کے پاس موجود نہیں ہیں۔یہ الگ بات ہے کہ تاحال اس جزیرے کو ہندوستان ملکیت ہی مانا جارہا ہے اور ماہی گیروں کے علاوہ ہندوستانی بحریہ کی مشقیں بھی اس جزیرے پر کی جاتی ہیں۔ لیکن اس جزیرے کو اپنی ملکیت ثابت کرنے کے لئے نہ کوئی دستاویزی ثبوت ہے، اور نہ اسے بھٹکل یا ضلع کے کسی اور علاقے کے نقشے میں شامل رکھا گیا ہے۔ اور نہ ہی کسی اور کے پاس کوئی دستاویز ہونے کے امکانا ت ہیں۔
مرڈیشور ساحل سے 10ناٹیکل میل (تقریباً 17کیلو میٹر) کی دوری پر واقع یہ جزیرہ برسہا برس سے بھٹکل، مرڈیشور اور اطراف کے لوگوں کے لئے ایک پکنک اسپاٹ رہا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ اس پر ہندو ماہی گیروں کی طرف اس جزیرے پر جٹکا دیوا کی پوجا کی جاتی ہے۔اور چڑھاوے کے طور پر بکرے اور مرغے وغیرہ یہاں چھوڑ دئے جاتے ہیں۔ ادھرسالانہ عیسائیوں کا ایک مذہبی تہوار ہوتا ہے تو مسلم عقیدتمندوں کے لئے یہاں ایک درگاہ بھی موجود ہے۔ اس طرح یہ سیاحوں کے علاوہ تقریباً تینوں مذاہب کے ماننے والوں کے لئے ایک اہم مقام بن گیا ہے۔
ابھی حالیہ کچھ برسوں سے یہاں پرضلع انتظامیہ کی جانب سے اسکوبا ڈائیونگ کی جو سہولت فراہم کی گئی ہے اس سے اس جزیرے کو عالمی شہرت حاصل ہوگئی ہے اور دنیا میں اسکوبا ڈائیونگ کے چند بہترین اور معروف ٹھکانو ں میں اس کا شمار ہوتا ہے۔ہندوستان میں اسکوباڈائیونگ کے لئے یہ سب سے پہلے نمبر پر ہے اور اس کے بعد دوسرا نمبر انڈومان نکوبار آتا ہے۔
ہندوستانی بحریہ کی جانب سے وقتاً فوقتاً اس جزیرے پر فوجی مشقیں کی جاتی ہیں اور بمباری کی تربیت دی جاتی ہے۔ ایسے وقت میں جزیرے پر ماہی گیروں یا سیاحوں کے آنے جانے پر پابندی لگادی جاتی ہے۔یہاں پر فوجی مشقیں کرنے اور پابندی لگانے کے خلاف کبھی کبھار ماہی گیروں کی جانب سے آواز بھی بلند کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ فوجی مشقوں کے دوران جو بم پھٹنے رہ جاتے ہیں اور لاوارث پڑے رہتے ہیں، ایسے بم بعد کے دنوں میں پھٹنے سے لوگوں کے ہلاک ہونے کے معاملات بھی سامنے آچکے ہیں اوراس کے خلاف عدالت کے دروازے بھی کھٹکھٹائے گئے ہیں اور بعض دفعہ عدالت سے اسٹے میں حاصل کیا گیا ہے۔لیکن وقفے وقفے سے فوجی تربیت کی مشقیں یہاں ہوتی رہتی ہیں اور ماحول میں بمباری اور فائرنگ کی آوازیں گونجتی رہتی ہیں۔
تعجب خیز امر یہ ہے کہ اس جزیرے کو بھٹکل کے نقشے میں شامل کرنے کے لئے 2008-2009میں بھٹکل کے تحصیلدار اے آر متھائی نے اس جزیرے کے سروے کا کام انجام دیا تھا اور کارروائی آگے بڑھائی تھی، لیکن اب کسی سے پوچھو تو اس فائل کے بارے میں لاعلمی ظاہر کی جاتی ہے۔ایسے میں عوام پوجاپاٹ اور مذہبی رسومات کے لئے، بحریہ اپنی مشقوں کے لئے اور ضلع انتظامیہ اسکوبا ڈائیونگ کے لئے اپنی اپنی ملکیت بتارہے ہیں او رکسی کے پاس بھی کوئی دستاویزی ثبوت ایسا نہیں ہے، جو قانونی طور پر ان کی ملکیت ثابت کرسکے۔
ضلع ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر ہریش کمار کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ ابھی تک میرے علم میں نہیں آیا تھا۔دوسرے علاقوں میں موجود پہاڑوں او رجزیروں کے تعلق سے سرکار کی جو پالیسی ہے، اس کا جائزہ لینے کے بعدنیتراوتی جزیرے کے تعلق سےغورخوض کرنے کے بعد ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔